حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی قومی نماز کمیٹی کے سربراہ حجۃالاسلام محسن قرائتی نے کہا ہے کہ آج دنیا کا مسئلہ علم اور ٹیکنالوجی کی کمی نہیں، بلکہ ایمان، اخلاق اور انسانیت کی کمی ہے۔ طلبہ کو تعلیم کے ساتھ نماز اور دینی تعلیمات کے ذریعے بھی تربیت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے صوبہ سمنان کے شہر شاہرود میں منعقدہ ساتویں قومی طلبہ اجلاسِ نماز سے ویڈیو پیغام میں نماز کو انسان کی اعتقادی، اخلاقی اور سماجی تربیت کا جامع ذریعہ قرار دیا۔
استاد قرائتی نے کہا کہ نماز محض چند حرکات اور اذکار کا نام نہیں، بلکہ اس میں توحید، نبوت، ضرورت مندوں کی مدد، نظم و ضبط، صفائی اور دوسروں کے حقوق کی رعایت جیسی تعلیمات شامل ہیں۔ قرآن مجید میں نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کے ساتھ محروم افراد کی مدد بھی ضروری ہے۔
انہوں نے بچوں کی دینی تربیت میں خاندان اور تعلیمی اداروں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ بچپن ہی سے بچوں کو نماز کی ترغیب دیں۔ اساتذہ، تربیت کاروں اور علمائے دین کی کوششیں بھی اس سلسلے میں اہم ہیں۔
استاد قرائتی کے مطابق، انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد مدارس میں نماز کو فروغ دینے کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے گئے ہیں اور اس وقت 20 ہزار سے زیادہ طلبہ مدارس میں نمازِ ظہر کی امامت کے لیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں مزید تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کو طبیعیات، کیمیا اور دیگر جدید علوم کے ساتھ ایمان، اخلاق اور ادب بھی سیکھنا چاہیے، کیونکہ علم اگر اخلاق و معنویت سے خالی ہو تو اسے دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
استاد قرائتی نے نماز کو روحانی سکون اور قوت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ ایسے دوستوں کا انتخاب کریں جو انہیں معنویت اور خدا کی بندگی کی طرف راغب کریں اور اپنے ساتھیوں میں بھی نماز کو فروغ دیں۔










آپ کا تبصرہ